ہفتہ 17 اکتوبر 2026 - 23:16
پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کے بجائے قیامِ امن کا ضامن بنے

کراچی میں ملت تشیع پاکستان کی نمائندہ جماعتوں اور قومی تنظیموں کا اجلاس؛

پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کے بجائے قیامِ امن کا ضامن بنے

خطے کی صورتحال، پاکستان کے سفارتی کردار اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

حوزہ / کراچی میں ملت تشیع پاکستان کی نمائندہ جماعتوں اور قومی تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ایران، فلسطین، لبنان اور یمن کی صورتحال پر غور، فرقہ وارانہ پروپیگنڈے کی مذمت اور مظلوم اقوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات اور یمن سعودی تنازع کے تناظر میں مکتب اہل بیتؑ کے خلاف مبینہ بے بنیاد پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے ملت تشیع پاکستان کی نمائندہ جماعتوں اور قومی تنظیموں کا ایک اہم قومی مشاورتی اجلاس جمعہ 16 اکتوبر 2026ء کو کراچی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں خطے کی صورتحال، پاکستان کے سفارتی کردار اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، امامیہ آرگنائزیشن، ہیئت ائمہ مساجد و علماء امامیہ، پیام ولایت فاؤنڈیشن، تنظیم عزاداری، جعفریہ آرگنائزیشن، تحریک بیداری امت مصطفیٰ سمیت دیگر قومی و ملی تنظیموں کے نمائندوں اور شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر منعقدہ پریس بریفنگ میں علامہ ناظر عباس تقوی، مولانا صادق جعفری، مولانا عقیل موسیٰ، مولانا اصغر شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ نثار قلندری، مولانا حیدر عباس، مولانا اطہر مشہدی، علامہ سجاد حاتمی، علامہ سجاد شبیری، برادر کاظم عباس، برادر کونین مصطفیٰ، عسکر دیوجانی، یاور عباس اور صغیر حسن عابدی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں اجلاس کی مشترکہ قراردادیں پیش کی گئیں۔

پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کے بجائے قیامِ امن کا ضامن بنے

ایران، فلسطین اور لبنان پر حملوں کی مذمت

اجلاس کے شرکاء نے رہبر معظم آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ قرارداد میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران، فلسطین اور لبنان پر حملوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے حوالے سے قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں عالمی عدالت کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

شرکاء نے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے روضہ ہائے مبارک کو مقدس مقامات قرار دیتے ہوئے ان کے دفاع کو ہر کلمہ گو کی ذمہ داری قرار دیا۔ اجلاس کے شرکاء نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حملوں سے متعلق مبینہ جھوٹی خبروں کے ذریعہ پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی روک تھام کی جائے۔

پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کے بجائے قیامِ امن کا ضامن بنے

یمن سعودی تنازع میں پاکستان کے ثالثی کردار پر زور

قومی مشاورتی اجلاس نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کے حل کے لیے آئین پاکستان کے آرٹیکل 40 کے مطابق اپنا سفارتی کردار ادا کرے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کو مسلم ممالک کے درمیان تنازعات میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور ثالثی کے ذریعہ امن کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے۔

اجلاس کے شرکاء نے سعودی عرب کی جانب سے یمن پر حملوں کی روک تھام کے لیے بھی حکومت پاکستان سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات میں فریق بننے کے بجائے قیامِ امن کا ضامن بنے

مظلوم اقوام کی حمایت اور قومی سلامتی سے متعلق قراردادیں

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملت تشیع پاکستان دنیا بھر کے مظلوم عوام، بالخصوص فلسطین، لبنان، یمن کے عوام کی حمایت جاری رکھے گی۔

شرکاء نے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن کی حمایت کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ملک کی سلامتی، امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔

اجلاس نے پاکستان میں امریکی مداخلت کے خاتمے پر بھی زور دیا اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو اہم قرار دیا۔

قومی مشاورتی اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام، مسلم ممالک کے درمیان باہمی احترام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے علامہ صادق جعفری اور علامہ غلام ملک، شیعہ علماء کونسل کی جانب سے مولانا سجاد حاتمی، ہیئت ائمہ مساجد و علماء امامیہ کی جانب سے مولانا اصغر شہیدی، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے برادر حسن، جعفریہ الائنس کی جانب سے علامہ باقر حسین رضوی اور علامہ نثار احمد قلندری، جناب شبر رضا، علامہ حیدر عباس، تحریک بیداری امت مصطفیٰ کی جانب سے جناب یاور عباس، جناب تقی، مولانا رضی حیدر زیدی، مولانا عقیل موسیٰ، تنظیم عزاداری کی جانب سے جناب علی حسین نقوی، جعفریہ آرگنائزیشن کی جانب سے جناب عسکری دیوجانی، جناب حسن صغیر ایڈووکیٹ، جناب راشد رضوی، جناب رضی حیدر، جناب عباس حیدر، مولانا اطہر حسین مشہدی، جناب مزا انجم، پیام ولایت کے نمائندوں سمیت دیگر قومی و ملی شخصیات نے شرکت کی اور اجلاس میں اپنی آرا پیش کیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha